Other Sister
*وَصَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ يَا وَلِيَ الْعَصْرِ أَدْرِكْنَا*
⏺️ *درس 16*
✍️ س ۔ظہور امام زمانہ ع میں کیوں تاخیر ہے اور غیبت کیوں طولانی ہورہی ہے؟؟؟
امام ع کن کے منتظر ہیں اور صفات انصار۔۔۔۔ دنیا عالمی سطح پر بھی ظلم و ستم سے بھر رہی ہے۔ حکومتوں کا ظلم و ستم اور لوگوں کا استحصال ۔۔۔۔
🔘 *شرائطِ ظہور*
بحث شرائطِ ظہور کی ہے، عام طور پر شرائطِ ظہور کی بحث نہیں ہوتی ہمارے علماء یا اہل منبر جو ہیں وہ علامات ظہور کی بحث کرتے ہیں اور لوگوں کو ہمیشہ علامات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ مولا ع کے ظہور سے پہلے یہ بیماری ہوگی فلاں قتل ہوگا یہ واقعہ ہو گا۔ لوگ ان میں مہدی ع کا ظہور ڈھونڈ رہے ہیں۔۔۔۔
یہ ظہور سے پہلے کے حالات ہیں۔حالات کا فاصلہ اصل ظہور سے کئی ہزار سال بھی ہو سکتا ہے۔
مثلا ہم روایات میں دیکھتے ہیں کہ معصوم ع نے فرمایا کہ قائم کے قیام سے پہلے بنی عباس کی حکومت کا خاتمہ ہوگا اب یہ خاتمہ یہ علامت نہیں ہے اب خاتمہ ہوئے سینکڑوں سال گزر گئے ہیں یا فلاں عرب کا بادشاہ ہوگا اس کا یہ نام ہوگا اور وہ مر جائے گا تو اس طرح کے کئی لوگ آئے۔ یا زلزلے ہوں گے یا فلاں طوفان ہوں گے یا خون ریزی ہوگی یا بیماریاں ہوں گی یا سفید موت ہوگی یا سرخ موت ہوگی اس طرح کی باتیں چلی آرہی ہیں اور یہ ہر دور میں تھی سفید موت اس سے پہلے کئی دفعہ آچکی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔۔۔
⬅️ جب بھی کوئی شخص سوال کرے اس کا ایک سادہ سا جواب ہے وہ یہ ہے کہ مولا ع اس وقت ظہور کریں گے جب ہم ظہور کے لیے تیار ہوں گے یعنی در واقع یہ سوال ہم نے خود اپنے آپ سے کرنا ہے کہ ہم کب ظہور کے لیے تیار ہوں گے❓ ہم نے مولا کے لیے کیا کیا ہے❓ اور یہ جو جواب ہے یہ وہی شرائط ظہور کا ہے۔۔۔
علامات ظہور کا صرف ایک ہی فلسفہ ہے کہ علامات جو ہیں وہ حقیقی اور جھوٹے مہدی کے درمیان تشخیص کا کام کرتی ہیں۔وہ اصل ظہور کا باعث نہیں ہے یعنی جب ظہور کے اسباب جمع ہوں گے تو یہ علامات خود ڈیڑھ سال کے دورانیے میں ساری علامات ظاہر ہو جائیں گی۔ اصل ظہور اور علامات ایک اکٹھا ایک ایسا موضوع ہے کہ جو کچھ اسباب پہ موقوف ہے وہ اسباب جب تک نہیں آئیں گے نہ علامات آئیں گی وہی علامات حتمیہ۔۔۔۔
🍃جیسے سفیانی کا خروج ہے
🍃یمنی کا قیام ہے
🍃آسمانی اواز ہے
🍃خسف بیدا ہے
🍃 نفس زکیہ کی شہادت
یہ ساری اپنے ٹائم پہ آئیں گی کب❓ جب اسباب ظہور مہیا ہو چکے ہوں گے۔
صرف ہماری نمازوں میں بعض دعائیں کر لینا، یہ کافی نہیں ہے البتہ دعاؤں کا اثر ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔لیکن دعا اس وقت اثر کرتی ہے جب ساتھ دوا بھی ہو۔
🌼اب مولا ع کا جو ظہور ہے وہ اپنی شرائط پر موقوف ہے۔ وہ شرائط جب تک پوری نہ ہوں انسان ظہور تک نہیں پہنچ سکے گا اور اگر یہی حالت رہی تو سینکڑوں سال اور بھی گزر سکتے ہیں۔
دیکھیں ہم اس وقت ٹھیک اسی زمانے میں ہیں کہ جس کے بعد صرف زمانہ ظہور شروع ہونا ہے ساری دنیا کے زمانے ختم ہو چکے ہیں ایک لاکھ 24 ہزار نبی آچکے ہیں آخری نبی ص کے سارے وصی آچکے ہیں۔ ہم ٹھیک آخری وصی ع کے زمانے میں غیبت کے دو مرحلے تھے۔ ایک مرحلہ ادا ہو چکا دوسرے مرحلے کا بھی اتنا وسیع وقت گزر چکا ہے ۔
ہمارے جو اوائل کے جو فقہاء اور بزرگان تھے جیسے شیخ طوسی علیہ الرحمہ سید مرتضی رح وہ کبھی بھی یہ نہیں سوچتے تھے کہ ظہور میں اتنی تاخیر ہوگی وہ کیوں فتویٰ دے رہے تھے کہ مالِ امام کو زمین میں دفن کرو۔ کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ کچھ عرصے کے بعد مولا کا ظہور وہ خود ہی نکال لیں گے زمین سے لہذا یہ امانتیں ان کو زمین میں دفن کرو وہ تو بعد میں جب وقت پہ وقت گزرتا رہا تو متاخرین اس بات پہ پہنچے کہ زمین میں دفن کرنا حق، یہ کہ مسئلے کا حل نہیں ہے لوگوں کے مسائل کیسے حل ہوں مولا ع کا ظہور میں ممکن ہے اور تاخیر ہو۔۔۔
پھر آہستہ آہستہ مجتہدین نے بڑی سوچ و بچار کے ساتھ اس خمس، ان وجوہات کو ان امور پر سرف کرنا شروع کیا۔
⬅️ تو خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہم دنیا میں ایک چھوٹے سے انقلاب کا بھی مشاہدہ کریں تو چار چیزیں ہمارے سامنے ہیں۔
1ـ اس انقلاب کا ایک رہبر ہونا چاہیے۔ بابصیرت توانہ علم کے اعتبار سے شجاعت کے اعتبار سے ہر اعتبار سے۔
دوسرا اس انقلاب کے پروگرام اس کے اہداف اور اس انقلاب کو کامیاب کرنے کے لیے تمام تر، یعنی وہ جو مشن ہے وہ ہمارے سامنے واضح ہونا چاہیے۔ پتہ چلے انقلاب کیسے شروع ہوگا کیسے ختم ہوگا اپنے تمام مراحل کیسے ادا کرے گا ، یہ اُس رہبر کو اور ان ناصرین کو پتہ ہونا چاہیے۔
اور تیسری جو چیز ہے وہ ناصرین ہے وجود ناصرین اگر ناصرین نہ ہوں تو ہمارے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم اتنا عرصہ مکہ میں ظلم سہتے رہے کیوں نہیں حکومت تشکیل کر پائے❓ ناصر ملے ہیں حکومت تشکیل ہو گئی۔
اور ناصروں کے ساتھ ناصروں کی تیاری چوتھی چیز تیار ہونا ہے ہم کس چیز میں پڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے اکثر جو لوگ ہیں ان کا زعم یہ ہے کہ بس ظہور کی دعا کریں اور اللہ کسی وقت بھی مولا کو ظاہر کر سکتا ہے اور جب وہ ظہور کریں گے تو سارے کام خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے ۔۔۔۔
👈یہ وہ چیز ہے جو ہمارے چھٹے مولا سے بھی کسی نے آکر کہی کہ قائم کے امور تو ایک رات میں ٹھیک ہو جائیں گے تو امام نے ناراحتی کا اظہار کیا تھا فرمایا تھا، اگر قرار یہ ہوتا کہ اللہ کسی کے لیے ایک رات میں خود خدا سارے کام کرتا تو پھر وہ سرور کائنات ص کے لیے کرتا۔ ہرگز ایسا نہیں ہوگا یہ مہدی ع کے ناصر ہیں جو ان کے لیے جنگ کریں گے ظہور کا پیش خیمہ فراہم کریں گے۔وہ ہیں کہ جس کے بارے میں مولا فرماتے ہیں میں انہیں دیکھ رہا ہوں وہ سواریوں پر بھی حالت ذکر خدا میں ہے اور ان کے جسموں سے خون پسینے کی طرح بہہ رہا ہے اور مسلسل لڑ رہے ہیں۔
⬅️ہمارے نبی ص کا بہت مقام ہے یہی نبی ص کہ جس کی پروردگار اتنی قسمیں کھا رہا ہے لیکن اسی پیغمبر ص کو جب ناصر ملے، اس پیغمبر نے اس وقت حکومت کو بپا کیا۔ چونکہ قرار نہیں ہے کہ خدا دخل دے اور خدا خود حکومت کو قائم کرے اگر خدا نے ہی قائم کرنا ہوتا تو نبیوں کو بھیجنے کی ضرورت کیا تھی ۔
خدا کہتا ہے ٹھیک ہو جاؤ سارے ٹھیک ہو جاتے جس طرح خدا نظام تکوینیات کو سنبھالے ہوا ہے نظام تشریح کو ہماری اس چھوٹی سی دنیا جو اتنی ہزاروں کروڑوں کہکشاؤں کا نظام سنبھالے ہوئے ہیں۔ اس کے لیے زمین جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے جو لوگ فلکیات کو پڑھے ہوئے ہیں انہیں پتہ ہے خود ہماری اپنی کہکشاں میں زمین کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ پھر اسی زمین کا سارا تکوینی نظام خدا چلا رہا ہے ۔
خدا کی ہر تخلیق کے اندر ہزاروں نظام خود ہمارے بدن کے ہزاروں نظام ہیں جنہیں ہم نہیں چلا رہے وہی چلا رہا ہے۔ ہاں! ہم اسے بگاڑ دیتے ہیں۔ انسان کا کام یہ اپنے اختیار سے اللہ کے کاموں کو بگاڑنا ہے ۔ ہم بگاڑ رہے ہیں لیکن وہ چلا رہا ہے اس کا جو نظام اسباب مسببات ہے وہ چلا رہا ہے ہم جب دخل دیتے ہیں کچھ اسباب کو خراب کرتے ہیں اس کے پھر غلط نتائج سامنے آنے شروع ہو جاتے ہیں اگر خدا نے چلانا ہوتا تو نہ خدا اتنے نبی بھیجتا ۔۔۔۔۔
ہاں! یہی پیغمبر ص اتنا عرصہ مکہ میں ظلم و ستم برداشت کرتے رہے جب مدینہ سے یثرب سے لوگ آئے اور انہوں نے نصرت کا یقین دلایا اسی پیغمبر نے مدینہ ہجرت کی اور مدینہ کو مہیا پایا ایک اسلامی حکومت کے لیے اور انہی کے ساتھ آغاز کیا۔چونکہ مدینہ کے لوگ قسم کھا چکے تھے جان و مال ہر طرح کی اور پھر ان لوگوں نے دکھایا اپنی جانیں لٹا کے اور پیغمبر ص اپنی زندگی میں حجاز پہ حکومت قائم کر چکے تھے۔
امام علی ع جیسا امام ۔۔۔۔ اگر ناصر نہ ہوں تو 30 سال سے زیادہ انہیں اپنے گھر میں بیٹھنا پڑتا ہے اور جب ناصر ملے تو وہی علی چند سال میں عدل کے وہ جلوے دکھاتے ہیں کہ آج تک دنیا مولا علی ع کو صرف اسی چار سالہ دور حکومت کی وجہ سے یاد کرتی ہے اور روتی ہے۔ اگر یہ چند سالہ حکومت مولا کو نہ ملتا شاید ہم شیعہ اپنے مکتب کے حوالے سے شیدائی ہوتے لیکن دنیا شاید اتنی عاشق نہ ہوتی علی ع کی اتنے اس چار سالہ دور میں انہوں نے عدالت علوی کو دیکھا
⚪لیکن یہ کیسے بپا ہوئی ❓چند ناصروں سے ۔۔۔۔
ہمارے باقی امام ع بھی اپنی اپنی جگہ پر حکومت الہیہ کو بپا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں رکھتے تھے لیکن کیوں نہیں، ناصر نہیں تھے۔۔۔۔ سب نے یہ شکوہ کیا ۔
⬅️اور آج جس امام نے اس حکومت کو بپا کرنا ہے اس کی غیبت میں تاخیر کی وجہ بھی یہی ہے ایک تو ناصروں کا نہ ہونا اور پھر ناصروں کا مہیا نہ ہونا ۔۔۔۔
میں ایک حدیث آپ کی خدمت میں جو بحار الانوار میں ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ۔۔۔۔
(( خدا امور کو غیر عادی طور پر انجام دینے سے عِبا رکھتا ہے))
خدا کبھی بھی امور کو غیر عادی طور پر انجام نہیں دیتا یہ نظام ہے ۔۔۔۔
🌀 ہمارے پاس جو ہے ان چاروں شرائط میں سے دو شرائط موجود ہیں۔
پروردگار نے ہمیں رہبر مہدی ع جیسا عطا کر دیا ہے۔ اس عالمگیر انقلاب کے لیے اور امام ع وہ ہستی ہے کہ ان کی امامت من اللہ ہونے پر تمام عالم اسلام کا اتفاق ہے۔ اس سے پہلے والے 11 آئمہ پر ممکن ہے باقی مکاتب فکر ہمارے ساتھ متفق ہوں یا نہ ہوں اگرچہ انہیں وہ امام ع مانتے ہیں۔ایک روحانی علمی۔ لیکن ایک عالم ایک فقیہ کی حد تک لیکن امام مہدی علیہ السلام وہ ہستی ہیں کہ جن کی امامت من اللہ ہونے پر شیعہ سنی سارے متفق ہیں وہ خود کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے امام ع ہے۔ کیوں؟ کیونکہ صاحب شریعت پیغمبر عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے اور ان کی اقتدا کریں گے، جس کی اقتدا عیسیٰ جیسا نبی ص کر رہا ہے وہ خدا کا بنایا ہوا امام ہے۔ اس پر شیعہ سنی کا تقریباً اتفاق ہے ۔
جن کے ناصر عیسیٰ مسیح ہوں، اس پر احادیث ہیں صحیح بخاری صحیح مسلم سے ۔۔۔۔۔
🌱 پھر علم کے حوالے سے امام زمانہ وہ ہستی ہیں کہ جن کے بارے میں احادیث ہیں خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ہے۔۔۔۔۔
(( تمام علوم جو اللہ نے بشر کو دینے ہیں تمام علوم کا وارث مہدی ع ہیں ))
اور یہ تو ہماری روایات میں ہے کہ اللہ نے 27 باب علم کے دینے تھے جن میں سے دو باب ابھی ہمیں عطا ہو گئے ہیں وہ بھی مکمل نہیں باقی 25 ان کے زمانے میں ملیں گے۔۔۔۔
اور خود جب بھی خدا کسی کو امام بناتا ہے سورہ بقرہ میں 246 اور 247 نمبر آیت جو جناب طالوت کا واقعہ ہے آپ اس کے اندر دیکھیں پروردگار نے حضرت طالوت کو کیا دیا❓
خدا کا مہیا شدہ جو امام ہوتا ہے وہ ان دو چیزوں کو اپنے وجود میں رکھتا ہے...
1ـ وہ خدا سے حامل علم ہوتا ہے ۔۔۔
2ـ اور دوسرا پروردگار اس سے قوت قلب اسے شجاعت سے نوازتا ہے....
پس امام حامل علم ہو اور شجاع ہو۔ امام وہ ہو کہ جو اپنے انقلاب کو تا آخر مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور تمام رکاوٹوں کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اور یہ صفت تمام آئمہ میں تھی اور بالخصوص امام مہدی میں یہ ہے کہ ابھی بھی امام ع کو ناصر مہیا ہوں امام اس پوری زمین کو سات مہینے میں کنٹرول میں لے لیں گے اتنی صلاحیت ہے میرے مولا ع میں ۔
یہ صلاحیت ہے مولا میں اُن کے پاس جو پروگرام ہے جو کتاب خدا اور سنت پیغمبر جو کچھ علوم ان کو اللہ نے عطا فرمائے ہیں اور جو شجاعت عطا فرمائی ہے اور جو بصیرت اور جو لیاقت عطا فرمائی ہے مولا ع پوری دنیا کا نظام سات مہینوں میں سنبھال دیں گے ۔۔۔۔۔۔
یعنی امام ان تمام چیزوں سے مجاہذ ہے ۔ خدا نے جو کام کرنے تھے وہ کر چکا ہے۔ امام عطا کیا اور اس کو مجاہذ کیا۔ اور یہ ہماری احادیث میں یہ جو لقب ہے لفظ منصور وہ اس لیے ہے کہ ان کی نصرت پروردگار کی طرف سے ہے پروردگار نے امام کی نصرت کرنی ہے۔ جس طرح جنگ بدر میں رسول اللہ کی بھی نصرت کی لیکن پہلے بدر کی تعداد کے ناصر تو مہیا ہوں۔
اس زمانے میں ہزار سے مقابلہ تھا 313 کی ضرورت تھی، آج عربوں کی دنیا ہے پتہ نہیں کروڑوں شیطانوں سے جنگ ہو لاکھوں کی ضرورت ہے ، اب ہمارے بعض لوگ کہتے ہیں جی وہ 313 کا ذکر ہے اور وہ 10 یا 12 ہزار جوانوں کا ذکر ہے تو وہ کہاں ہے❓ وہ بھی نہیں ہے وہ 313 بھی نہیں ہیں کیوں نہیں ہیں ....
ہو سکتا ہے چند ایک ہوں میں بطور کلی عرض کررہا ہوں کیونکہ ہم نے کبھی پڑھا ہی نہیں ہے وہ 313 کیسے ہوتے ہیں ان 313 کی کیا صفات ہیں۔
کہاں ہمارے مکتب میں پڑھایا جاتا ہے کہاں یہ بتایا جاتا ہے کہاں لوگ کوشش کرتے ہیں کہ ان صفات میں سے کوئی ایک آدھی صفت ہم اپنے اندر پیدا کریں۔
⏺️ *صفاتِ منتظرین* ــــــ
درست ہے مولا 313 ناصر کے منتظر ہیں پہلے مرحلے میں اور دوسرے مرحلے میں 10 سے 12 ہزار ناصروں کے منتظر ہیں لیکن یہ 313 کی کچھ صفات ہیں یہ وہی صفات ہیں جو ہم مثلا حبیب میں محسوس کرتے ہیں حبیب ابن مظاہر، میں مالک اشتر میں، میں ابوذر میں، عمار یاسر میں اور یہ لوگ وہ تھے جو نازل نہیں کیے گئے تھے یہ ہم میں سے ہی تیار ہوئے تھے جنہوں نے اپنے زمانے کے امام ع کی معرفت پیدا کی اور اُس کی منشا کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا شروع کیا وہ صفتیں خود بخود پیدا ہو گئیں ان تمام چیزوں کے پیچھے وہی معرفت امام ہے۔ جتنی میری اپنے مولا کی طرف توجہ بڑھے گی اُن کا ذکر بڑھے گا، ان کی محبت بڑھے گی ، ان سے عشق بڑھے گا، اُن کے بارے میں تمام معلومات کو میں حاصل کروں گا اور پھر اپنے مولا ع کے فرامین سے آگاہ ہوں گا اور ان کے اہداف سے اور کس طرح مولا نے ظہور کرنا ہے۔اس میں میرا کیا نقش ہے میرا کیا کردار ہے جب میں اس چیز کو اپناؤں گا بے بعنوان منتظر اپنے وظائف شروع کروں گا اور ناصروں والی خصلتوں کو پڑھوں گا اور انہیں اپنے اندر ان خصلتوں کو لاؤں گا یہیں سے آغاز ہے ظہور کا ۔
🍃 مثلاً ہمارے آئمہ نے جب امام زمانہ کے ناصرین کا ذکر کیا تو ایک چیز جو ذکر کی۔۔۔
*فرماتے ہیں کہ۔۔۔۔*
یہ وہ ہیں جو اپنے خدا اور اپنے زمانے کے امام ع کی عمیق معرفت رکھتے ہیں ۔
معصوم فرماتے ہیں ہمارے چھٹے مولا ع کہ ۔۔۔۔۔
(( یاران مہدی ع کے دلوں میں ذات پروردگار کے بارے میں ذرا برابر شک نہیں ، مقام یقین تک پہنچے ہیں))
👈مثلاً ان کی سب سے پہلی صفت ہے کہ یہ مواحد ہیں۔ اپنے رب اور رب کے مزاج کو جانتے ہیں ہمارے ہاں کہاں توحید کے درس ہوتے ہیں؟ کہاں توحید پڑھائی جاتی ہے کہاں منبر پر کہی جاتی ہے کہاں خدا کی صفاتِ جمال صفاتِ جلال، خدا کی جو صفات افعلیہ ہیں اور پھر ان کے اندر ہر صفت اپنے اندر ایک بحث رکھتی ہے ، اور آپ کو پتہ ہے جتنی ہماری شناخت اللہ کے بارے میں بڑھے گی ہمارے عمل میں اتنی ہی تبدیلی پیدا ہوگی۔۔۔۔ چونکہ عمل کا دارومدار عقیدے پر ہے وہ معرفت پر ہے۔۔۔۔
یہ لوگ امام مہدی ع کے ناصر یہ توحید کا مطالعہ کرتے ہیں توحید پہ غور و فکر کرتے ہیں اور توحید عملی رکھتے ہیں یعنی واقعاً ان کو دیکھ کر خدا یاد آتا ہے۔
ان کے کاموں میں اتنی احتیاط اور اتنا خوف خدا ہوتا ہے اتنی خشیت ہوتی ہے اب ان کے فضائل ہمارے آئمہ پڑھ رہے ہیں۔
*فرماتے ہیں کہ ــــــــ*
مہدی ع کے ناصر وہ ہیں کہ جنہوں نے حق توحید ادا کیا ہوا ہے ۔۔
🔲اسی طرح ایک اور روایت میں معصوم فرماتے ہیں کہ ـــــــــ
(( یہ اپنے زمانے کے امام پر یقین کامل رکھتے ہیں وہی معرفت))
معرفت یعنی شناخت جس میں یقین ہو علم جس میں یقین ہو۔ معرفت مقامِ یقین ہے اس لیے معرفت کا مقام بلند ہے۔ یہ لازمی نہیں ہے کہ انسان ہر علم میں یقین پیدا کرے۔۔۔
نہیں! ہر یقین رکھنے والا عالم ہوتا ہے۔ لیکن ہر عالم عارف نہیں ہوتا۔ ہمیں بہت ساری چیزوں کا علم ہے لیکن ہم اس میں مقامِ یقین پر نہیں ہیں۔
⏺️ *مولا سجاد ع کا فرمان ہے*
(( یاران مہدی ع کو اللہ نے وہ عقل وہ فہم وہ معرفت عطا کی ہے کہ غیبت ان کے نزدیک بہ بمنزلہ مشاہدہ ہو چکی))
یعنی اتنا انہوں نے غیبت کے زمانے میں اپنے مولا ع کے موضوع پہ کام کیا ہے اب یہ اپنے امام ع کو محسوس کر رہے ہیں۔اتنا مولا ع کے اہداف کو پڑھا مولا کے دردوں کو پڑھا ان کی تنہائیوں کو پڑھا کہ اب اس درد کو اس تنہائی کو اپنے دل و جان میں محسوس کرتے ہیں اب صرف ان کا امام نہیں روتا یہ بھی روتے ہیں ۔ یہ بھی اس کے اشتیاق میں روتے ہیں یہ ہے مقام یقین ، یہ ہے وہ مقام عشق جو مقام معرفت جس میں دو طرف آپس میں متصل ہوتے ہیں۔۔۔۔
⚪ *امام باقر ع کا فرمان ۔۔۔۔۔*
(( معرفت رکھنے والے اُس طرح ہیں جس طرح قائم کے خیمہ میں رہتے ہوں ان کے ہمراہ رہنے والے))
لہذا سب سے پہلا کام جو ہے عزیزان ہمیں اپنی معرفت پہ یعنی مولا ع کے حوالے سے جتنا بھی آپ پڑھ سکتے ہیں پڑھیں اپنے روزانہ کا ٹائم رکھیں۔
آپ نے خود اپنے امام سے وعدہ کرنا ہے، اپنے مولا ع سے کہ مولا ہم اپنے اس 24 گھنٹے کے ٹائم میں اتنا ٹائم آپ کے لیے وقف کرتے ہیں اپنے امام کو خود ٹائم دینا ہے۔۔۔۔
اب وہ جو ٹائم ہے اس میں کتابیں ہیں علماء کے درس ہیں مختلف قسم کے مکالات ہیں اس موضوع پہ وہ پڑھیں اور اس میں اگر کوئی شبہ پیش آئے کوئی مشکل پیش آئے تو جو ماہرین مہدویت ہیں ان سے رابطے میں رہیں۔ یہاں قم کی فضا میں تو بڑی بڑی شخصیات ہیں یہاں باقاعدہ مراکز ہیں مہدویت کے۔۔۔۔ تو رابطے میں رہیں اور اس موضوع کو حل کریں، مولا ع کے حوالے سے اگر کوئی الجھن ہے لیکن اگر کوئی قسم کھائی ہے اگر کوئی وعدہ کیا تو اسے پورا کریں۔ اپنے امام سے یہ چھوٹے چھوٹے وعدے پورے کریں یہ چھوٹے چھوٹے وعدے ہم پورے کریں گے کل بڑے وعدے بھی پورے کریں گے۔ ایک چھوٹا سا وعدہ تھا کہ ہم نے ایک گھنٹہ ٹائم دینا ہے دو گھنٹے ٹائم دینا ہے تو یہ کب پورا کریں گے ❓اور اس کے لیے ٹائم نکالیں معین کریں کہ دن کا یا رات کا فلاں جو دو گھنٹے میں نے اپنے امام کے لیے اور اس ٹائم واقعاً اس موضوع پر کام کریں ، کتابیں خرید لیں کتابیں لے لیں کتاب خانوں سے ویسے لے لیں پڑھنے کے لیے کسی دوست سے لے لیں۔
بے پناہ علماء کے دروس ہیں فارسی میں عربی میں اردو میں ان کو سنیں ۔ یہ آغاز ہے معرفت کا اور پھر خدا سے بار بار توفیق مانگیں کہ پروردگارا ہمیں معرفت کامل عطا فرما🤲🏻 میں پڑھ تو رہا ہوں لیکن میرے دل کا جو اضطراب ہے میرے دل میں جو پیاس ہے یا میں یہ جو کبھی کبھی بے حسی ہو جاتی ہے غفلت ہو جاتی ہے یہ وہی معرفت کامل نہ ہونے کی وجہ سے ۔
چونکہ اہل معرفت ایک لحظہ کے لیے بھی غافل نہیں ہوتے ، اُن کے لیے ایک لحظہ اپنے مولا سے غفلت موت ہے وہ اسے موت سمجھتے ہیں اُن کی زندگی روحانی طور پر وہ ایسے ہی ہوتی ہے وہ اپنے مولا ع کے سانسوں کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔
⬅️ دوسری جو بات تھی کون سے انصار ہیں جن کے مولا ع منتظر ہیں ایک تو ان کے اندر معرفت ہو ٹائم دیتے ہوں امام پر کام کرتے ہوں۔۔۔
دوسرا جو ہے بحث اقتدا کی تھی اطاعت کامل کی تھی۔
🌹 چھٹے امام سے کسی نے پوچھا کہ مہدی ع کے جو ناصر ہیں وہ کس طرح ان کے مطیع ہوں گے انہوں نے اس کی مثال کنیز سے دی۔ انہوں نے کہا کہ اُن کی امام سے اطاعت اسی طرح جس طرح ایک کنیز اپنے آقا کی اطاعت کرتی ہے ۔غلام کی اطاعت اور کنیز کی اطاعت میں بڑا فرق ہے کنیز کی اطاعت بہت گہری ہے غلام تو کبھی کبھی نافرمانی بھی کرتے ہیں سرکشی بھی کرتے ہیں۔ لیکن کنیزیں نہیں اور کنیز جو ہے وہ بہت وسعت کے ساتھ اپنے امام کے اثر کو اپنے اوپر تسلط دیتی ہے اور اُن کی خدمت میں آتی ہے۔ تشبیہ تھی یعنی بھرپور تمام تر جوانت کے ساتھ اپنے مولا کے مطیع ہیں۔
اسی طرح ان کی عبادت کا ذکر ہے مثلاً ۔۔۔۔
*چھٹے مولا فرماتے ہیں۔۔۔۔*
(( یہ وہ لوگ ہیں کہ جو اپنی راتوں کو عبادت میں صبح تک پہنچاتے ہیں اور اپنے دنوں کو روزے کے ساتھ تمام کرتے ہیں))
یعنی دن میں یہ روزے کی حالت میں رہتے ہیں۔ کیونکہ روزہ خواہشات نفسانی نفس امارہ کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔ بہت ساری چیزوں کے لیے روزہ بہت مفید اور راتوں کو یہ عبادتوں میں۔۔۔۔
البتہ میں نہیں کہتا ساری رات، رات کا کچھ حصہ سونے کے لیے لیکن وہ جو آخری حصہ ہوتا ہے یہاں وہ مراد ہے۔ آخری حصے میں یہ جاگتے ہیں اور صبح تک جاگتے ہیں اور آپ خود جانتے ہیں سحری سے پہلے والا اور سحری کے بعد کچھ حصہ جو ہے یہ خاص رب کے معرفت رکھنے والے عاشقان پروردگار کا حصہ ہے اور اس میں جو توفیقات الٰہی نصیب ہوتی ہے۔ یہ اُن کی نشانی ہے۔
🔶 اسی طرح روایات میں ہے کہ یہ اپنے مولا پر جانیں نچھاور کرنے والے ہیں اور شہادت طلب ہیں اور جب مولا کا ظہور ہوگا یہ اُن کے گرد حلقہ باندھیں گے اور ہر آنے والا وار اپنے وجود پہ لیں گے اپنے امام ع کو کوئی بھی غزن نہیں پہنچنے دیں گے اور امام کی راہ میں شہادتیں دیں گے لیکن کبھی اس پر فخر نہیں کریں گے کہ ہم نے اتنی شہادتیں دی ہیں کبھی اس کا نام نہیں لیں گے۔
🔶 اور ان کی شجاعت کا ذکر ہے ان کو امیر المومنین ع شیروں سے تشبیہ دیتے تھے ہم امیر المومنین کو اسد اللہ کہتے ہیں۔ وہ انہیں شیر کہتے تھے وہ شیر ہیں مہدی کے ناصر کہ جو جب اپنی ٹھکانوں سے باہر آئیں گے تو پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلا دیں گے۔۔۔۔ شجاعت اہم پہلو ہے۔
🔶اور یہ روحی طور پر اتنے قوی ہیں اشارہ کریں تو پہاڑ اپنی جگہ سے ہل سکتے ہیں صاحبان کرامت ہے یہ لوگ۔
🔶 اسی طرح ان کے صبر و بردباری کی طرف ہمارے آئمہ ع اشارہ کرتے ہیں کہ یہ اللہ کی راہ میں بے پناہ صبر کریں گے اتنی مشکلات اٹھائیں گے پھر بھی ذرہ برابر بھی شکوہ نہیں کریں گے خدا کی بارگاہ میں ۔
🔶اسی طرح ان کی وحدت اور ہمدلی کا ذکر ہوتا ہے کہ یہ ہمیشہ یک دل ہے چاہے دنیا کے کسی بھی کونے سے ہوں کسی بھی قوم سے تعلق رکھتے ہوں کسی بھی زبان سے ہوں لیکن ان کے اندر جو رشتہ مہدویت ہے انہیں اس طرح اکٹھا کیا ہوا ہے جس طرح ایک ماں باپ کی اولاد ہے۔
اب میں یہ چیزیں بیان کر رہا ہوں یہ صفات ہیں جو ہمارے آئمہ نے بیان کیں۔ یہ ہمارے آئمہ کے الفاظ ہیں کہ دیکھنے والا یہ دیکھے گا یوں سمجھے گا جیسے ایک ماں باپ کی اولاد ہیں۔اتنا ان کے اندر پیار و محبت حالانکہ کوئی مشرق سے ہے کوئی مغرب سے ہے کوئی شمال سے ہے کوئی کسی قوم سے کوئی کسی قوم اتنا شاید سگے بھائیوں کے اندر محبت اور ہم دلی نہ ہو جتنا مولا ع کے ان ماننے والوں میں ۔
🔶 ان کے زہد کا ذکر ہے کہ یہ اپنے گھروں میں کوئی مال کے سونے چاندی کے روپے کے پیسوں کے ذخیرے نہیں لگائیں گے در حد ضرورت دنیا سے استفادہ کریں گے ۔
⬅️ اب یہ جو 313 ہیں وہ تو اس طرح کے ہیں لیکن جو دوسرے مرحلے کے ناصر ہیں 10 سے 12 ہزار ان کے بارے میں یہ ہے کہ ان میں سے ہر شخص دس دس آدمی جتنی صفات رکھتا ہے۔ مثلاً عفت میں 10 آدمی کے برابر ہے ، صبر میں 10 ادمیوں کے برابر ، زہد میں 10 مومنوں کے برابر ہے ، یہ دوسرے مرحلے کے ہیں ۔۔۔۔۔۔
⏺️وہ جو 313 ہیں انہوں نے تو کمانڈ کرنی ہے دوسرے مرحلے والوں نے آغازِ ظہور کرنا ہے۔۔۔۔
⏺️ تیسرے مرحلے میں عام مومنین جو ہیں ان کے ساتھ ملحق ہوں گے۔ لیکن یہ جو 10 یا 12 ہزار کا لشکر ہے یہ قوت میں ایک لاکھ بیس ہزار کے برابر ہے ۔ ان میں سے ہر آدمی نے کام کیا ٹریننگ لی ہے۔ وہ دس آدمیوں سے لڑ بھی سکتا ہے اور عبادت میں 10 شیطانوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ اگر ان کے اندر کا شیطان اور باہر سے نو شیطان ان پر حملہ کریں ان کے پاؤں کو لرزانے کی کوشش کریں تو یہ ان کے مد مقابل سلابط کے ساتھ کھڑا ہوگا اتنی اس کے اندر توحید ہے اتنی ولایت ۔۔۔۔
🔘 اب یہ جو چیزیں ہیں پہلا مسئلہ یہ کہ آیا ہم دیکھ رہے ہیں ایسے لوگوں کو اپنے ارد گرد ۔۔۔۔ جو 10 یا 12 ہزار والے ہی ہیں ان میں 10 آدمیوں کی صلاحیت ہے۔ ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں ہم نے ہو سکتا ہے اپ کہیں کہ جی شاید ایک دو آدمی ہم نے ایسا دیکھا ہو اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے امام کتنے مظلوم ہیں۔
نہیں ہیں ناصر، جو پہلا سوال ہے غیبت کے طولانی ہونے کی وجہ یہی ہے کہ ناصر نہیں ہیں، کوئی فرق نہیں پڑتا امام علی ع ہو یا امام مہدی ع ہو جب ناصر نہ ہو تو امام ع یا گھر میں بیٹھ جائے گا یہ پردہ غیبت میں چلا جائے گا۔ کیونکہ اللہ نے وعدہ کیا ہے دنیا کا نظام اسباب اور مسببات کے ساتھ جاری ہو اس کے بعد والا جو سوال ہے وہ یہ ہے کہ آیا ہم یہ بن سکتے ہیں❓ کیوں نہیں بن سکتے بن سکتے ہیں آیا یہ جو صفات 313 ناصروں کی یا 10 12 ہزار وہ جو جوان ہیں ان کی جو صفات ہیں آیا یہ ہم اپنے وجود میں پیدا کر سکتے ہیں❓ جی ہاں پیدا کر سکتے ہیں
🌱اس وقت بھی ہوسکتا ھے دنیا میں چالیس پچاس ناصر ھوں اور کام بھی کر رہے ہیں اور ان کا کام ممکن ہے 50 سال بعد اس طرح کے سو بندے آجائیں اور ممکن ان کا کام موجب بنے 10 یا 20 سال کے بعد اس طرح کےڈھائی سو بندے سامنے آجائیں۔ ہمیں نہیں معلوم۔ ہو سکتا ہے نہ ہو سکتا ہوں ۔۔۔۔۔
🔶 *ہمارا وظیفہ*
لیکن میرا اور آپ کا وظیفہ کیا ہے ❓
میرا اور اپ کا وظیفہ ہے کہ وہ بنے۔میرے اور آپ سے سوال جو ہوگا وہ یہی ہوگا کہ آپ 313 ناصر یا وہ 10 یا 12 ہزار والے ناصر کیوں نہیں بنے ۔
مثلاً فرشتہ مجھ سے قبر میں یہی سوال کرے گا کہ تیرا امام پردہ غیبت میں ہے وہ ظہور کا منتظر ہے تو نے ناصر بننا تھا سبب ظہور بننا تھا تو کیوں نہیں بنا ❓تو پہلے مرحلے میں کوشش کرتا 313 میں نہیں تو دوسرے مرحلے کا ناصر۔۔۔۔
تو نے کوشش کیوں نہیں کی تیرے اندر ضعف تھا مشکل تھی دوسرے مرحلے کا ۔۔۔۔ ہم کہیں نہیں ہم دوسرے کا نہیں تیسرے کا ہم عام ناصر بنتے ہیں ہم ان کا پرچار کرتے ہیں ۔ پھر وہ کیوں نہیں کیا بالآخر نصرت کا سوال ہونا ہے جو بھی مومن اس وقت دنیا سے جا رہا ہے وہ جو کہتے ہیں نا *من امامك* وہ وہی یہی ہے۔
🍃اب سوال یہی ہے امام کو کس وقت ضرورت ہے نصرت کی❓
🍃 میں نے اپنے امام کی ضرورت کو کتنا حد تک پورا کیا❓
🍃اس میں کیا نقش ادا کیا ہے❓
اس کا جواب میرے پاس ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔
ناصر بننا ہمارا وظیفہ ہے شرعی وظیفہ ہے ہم پر واجب ہے یعنی جو شخص اس چیز کو جانتا ہے۔اس موضوع پر کام کر رہا ہے جس کو مہدویت کا پتہ چل رہا ہے۔یہ اس کے لیے اسی طرح واجب ہے جس طرح ہمارے لیے نماز جس طرح ہمارے باقی اعمال ہیں، بلکہ اس سے بھی شدت سے یہ واجب ہے کہ ہم انصار کی صفات کو پڑھیں اور اسے اپنے اندر پیدا کریں اور یقین مانیں جب ہم اس چیز کو سمجھیں گے ہمارے بہت سارے اختلافات ختم ہو جائیں گے۔ کیونکہ ہمارے اندر تحمل اتنا بڑھ جائے گا وہ تو برداشت اتنی بڑھ جائے گی ہمارے اندر تولی اور تبرا اصلی شکل میں سامنے آجائے گا ، ہم اہل ایمان کا کلاً کینہ ختم کر دیں گے اور ہمارے اندر اپنے تمام بھائیوں کی طرف نگاہ بخشش کی نگاہ ہوگی، اور اگر کینہ ہوگا تو ابلیس کا ہوگا ابلیسی لشکر کا ہوگا، دشمنان مہدویت کا ہوگا، ہمارے علماء کا اختلافات ختم ہو جائیں گے، پوری قوم منظم ہو جائے گی۔۔۔۔۔
⬅️ یعنی یہ چیز مہدوی ناصروں نے یہ چیز اپنے اندر پیدا کرنی ہے اب آپ مختلف جگہوں سے مختلف مدارس سے مختلف ملتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کا یہ اجتماع کل ایک بڑے اجتماع کا باعث ہے اور ان کا اجتماع ایک عالمی سطح کا اجتماع کا باعث ہے اور یہی وہی زمانہ ظہور ہے۔ یعنی جب بھی کوئی کام شروع ہوتے ہیں وہ اکائیوں سے شروع ہوتے ہیں اور ہزاروں لاکھوں پہ جاتے ہیں ۔
لیکن یہ کوئی شروع تو کرے میں اپنی بات کو یہاں پہ ختم کرتا ہوں کہ ہم سب سے زیادہ شدت سے ہمارے امام ہمارے منتظر ہیں۔ وہ اسی طرح منتظر ہیں جس طرح کربلا میں حسین ع کوفہ کی راہ دیکھ رہے تھے اور ھل من ناصر ینصرنا کی صدا دے رہے تھے آج بھی مہدی ع اسی طرح اپنے ناصروں کے منتظر ہیں ۔
👈👈مولا کے ظہور کو ہماری نیکیاں سبب بنیں گی نہ کہ ہماری برائیاں اور ایک غلط تصور جو ہماری عوام میں ہے وہ یہ ہے کہ ظلم و ستم اور گناہوں کی کثرت ظہور کا سبب ہے۔۔۔۔ ہرگز نہیں! یہ تاخیر کا سبب ہے وہ جو چیز جو مولا کے ظہور کا باعث بنے گی وہ ان کے انصار کی نیکیاں ہیں اور ان کے انصار کا کام ہے اور کلچر انتظار ہے۔
🤲🤲اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے ہم اس سال وہ جو صفاتِ انصار ہیں ان کو پڑھیں اور کچھ صفتیں اس سال اپنے اندر پیدا کریں اور مولا کے قلب کے سرور کا باعث بنے ۔۔۔ پروردگار ہم سب کو ان لوگوں میں سے قرار دے جو تیری حجت کے ظہور کا باعث بنے اور تیری حجت کے ناصر بنے اور ان کے خدمت گزار بنیں۔ پروردگارا ہماری زندگی میں ہمارے مولا ع کے ظہور کو ہماری زندگی میں قرار دے اور ہمیں ان کے غیبت اور ظہور کے ناصروں میں سے قرار دے ۔
🤲 *التماسِ دعا*
*استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب*
🌐 *عالمی مرکز مہدویت قم*
کتاب غیبت نعمانی: باب چہارم
موضوع درس:
بارہ آئمہؑ کی تعیین اللہ کی طرف سے ہے، تین حدیث کی تشریح، شب قدر مقدرات کا امام زمان پر نزول ، امیر المومنینؑ سے امام زمانؑ عج کی غیبت پر روایت، حدیث لوح کا ترجمہ
*استاد مہدویت: قبلہ علامہ علی اصغر سیفی صاحب*🎤🌹
﷽
ہماری گفتگو چوتھے باب میں ہے اور یہ باب اس عنوان سے بیان ہوا ہے کہ آئمہؑ کی تعداد بارہ ہے۔ اس سلسلے میں دو احادیث کا ترجمہ ہو چکا تھا۔ آج انشاءاللہ 4،3 اور 5 حدیث بیان ہوگی اور اس کے درمیان میں کچھ نکات بھی بیان ہونگے۔
*حدیث نمبر 3️⃣*✨
امام محمدؑ باقرؑ اپنے سلسلہ آباء امیرالمومنینؑ سے نقل کرتے ہیں کہ :
*قال لابن* عباس:
ابن عباس ، امیرالمومنینؑ کی خدمت میں تھے تو امیرالمومنینؑ نے ابن عباس سے کہا کہ:
*ان لیلتہ القدر فی کل سنتہ،* 🌌
*لیلتہ القدر ہر سال میں ایک مرتبہ ہے۔*
شب قدر میں قدر اسے اس لیے کہتے ہیں کہ لفظِ 'قدر' اس کا معنیٰ اندازہ گیری ہے لیکن! اس سے مراد ہے کہ خدا کی جانب سے امور مقدر ہیں۔ یعنی ! جو امور خدا کی جانب سے طے پانے ہیں وہ اسی رات طے پاتے ہیں۔ اسی لیے شب قدر کہتے ہیں۔
*مولاؑ فرماتے ہیں:*
*وانہُ ینزل فی تلک الیلتہ امر السنتہ، وما قضی فیھا، ولذلک الامر ولاۃ بعد رسول اللہﷺ ،*
اس رات میں ایک سال کے تمام امور نازل ہوتے ہیں کہ جو کچھ اس سال میں ہونا ہے ، اور وہ موت، زندگی، صحت و بیماری ، حتیٰ ہمارے گناہ اور توفیقات وغیرہ ہیں۔ یعنی! دوسرے لفظوں میں اگر بیان کریں تو ہمارے گذشتہ سال کا عمل آنے والے سال کے امور کو طے کرتا ہے۔ اس لیے اس رات میں عبادت کرنے کا زیادہ حکم ہے تاکہ جبران ہو کہ اگر گذشتہ سال کے کوئی گناہ ہیں تو وہ معاف ہوں تاکہ اس سال کچھ اچھی چیزیں طے ہوں۔ اور جو کچھ فرشتے لے کر آرہے ہیں وہ ہمارے پچھلے سال کے عمل کو دیکھ کر خدا کی جانب سے طے شدہ کو لے کر آتے ہیں۔
مثلاً فرض کریں! کہ آئیندہ سال موت لکھی گئی ہو۔ لیکن! ہوسکتا ہے کہ اس رات ہمارا استغفار یا اس رات میں صدقہ دینا ممکن ہے کہ ہماری موت کو ٹال دے اور خدا ہمیں طول عمر عطا فرما دے اور ہمیں ایک اور سال مذید اپنی عبادت کے لیے دے دے۔ چونکہ زندگی بالآخر موت سے بہتر ہے اور موت اس عنوان سے ایک مصیبت اور بلا ہے کہ انسان جتنا زندہ رہے گا اتنا اپنے آئندہ جہان کے لیے زیادہ سے زیادہ کمائے گا اورکسب کرے گا تاکہ وہ آئندہ جہان میں وہ بالا ترین درجات کو آخرت میں حاصل کرے۔ اور اِس اعتبار سے دنیا کی تعریف ہے۔ ویسے ہوائے نفس کے اعتبار سے دنیا کی مذمت ہے۔۔۔ لیکن! اگر اس لیے انسان زندگی مانگے کہ اے پروردگار! میں تیری اطاعت و عبادت کروں اور تیرے بندوں کی خدمت کروں تو اس اعتبار سے دنیا حسن ہے۔ اور ویسے تو ہمارے اعمال پر ہمارے فیصلے ہوتے ہیں لیکن! اس ایک رات کی ہماری عبادت اور اعمال ہمارے مقدر کو بدل دیتے ہیں۔ اس لیے اس رات کو عبادت کا حکم ہے۔
*اب یہ جو رسولؐ اللہ ﷺ کے بعد ملائکہ کا نازل ہونا ہے یہ ان کے بعد ان کے اولیاء پر نازل ہوتے ہیں*✨✨✨✨✨
۔
*فقال ابن عباس: من ھم یا امیرالمومنینؑ؟*
ابن عباس نے پوچھا: اے امیرالمومنینؑ وہ کون ہیں؟؟
*فقال: انا واحد عشر من صلبی ، ائمتہ محدثون*
فرمایا: میں اور میری نسل سے گیارہ امامؑ کہ جن سے فرشتے گفتگو کریں گے۔
سبحان اللہ!
لفظ 'محدث' حدیث کی اصطلاح میں اس ہستی کو کہتے ہیں کہ جس سے ملائکہ ہم سخن ہوں اور اس وقت ہمارے ہی آئمہؑ کا یہ مقام ہے۔ اور اس سے قبل جیسے جناب مریمؑ سلام اللہ علیھا تھیں جو کہ پیغمبر نہیں تھیں لیکن ! ملائکہ سے ہم سخن تھیں۔ اور ایسی اور بھی ہستیاں ہیں کہ جو حکم نبوت میں نہیں ہیں لیکن ملائکہ کے ساتھ ہم سخن ہیں۔ 🫴
*اس وقت کائنات میں حجت خدا صاحب الزمانؑ عج وہ ہستی ہیں کہ جو حضرت جبرئیلؑ اور دوسرے ملائکہ سے ہم سخن ہیں۔ اور شب قدر وہ رات ہے کہ جس میں ملائکہ مہمان ہوتے ہیں اور حجتؑ خدا عج میزبان ہوتے ہیں اور اس رات میں زمین و آسمان کا علم حجت خدا کو دیا جاتا ہے۔*
*سبحان اللہ!*🌷
حجت خدا چونکہ اس زمین پر پروردگار کے خلیفہ ہیں اور انہیں آگاہ ہونا چاہیے کہ اس دنیا کے ساتھ اور لوگوں کے ساتھ کیا ہونا ہے۔ تو ملائکہ حجتؑ خدا عج کی خدمت میں یہ ایفاض مقدرات پہنچاتے ہیں۔
*حدیث: 4️⃣*✨
*عن الاصبغ بن نبائتہ: قال*
اصبغ بن نبائتہ کہتے ہیں کہ میں ایک دن امیرالمومنینؑ کی خدمت آیا:
*واتیت امیرالمومینؑ : ذات یوم فوجدتہ مفکراً ینکتُ فی الارض*
میں نے دیکھا کہ امیرالمومنینؑ فکر سے زمین میں نظریں گاڑھے ہوئے ہیں۔
*فقلت: یا امیرالمومنینؑ ، تنکت فی الارض ارغبتہ منک فیھا؟*
میں نے پوچھا: یا امیرالمومنینؑ آپؑ زمین کو بڑے غور سے دیکھ رہے ہیں۔۔ آیا زمین میں کوئی چیز ہے؟؟❓
فرمایا:
*لا* ،
نہیں،
*واللہ فارغبت فیھا*
میری زمین سے کوئی رغبت نہیں ہے بلکہ کسی فکر میں ہوں۔
*ولا فی الدنیا ساعتہ قط،*
اور نہ ہی میں اس دنیا کے بارے میں کوئی رغبت رکھتا ہوں۔
*ولکن فکری فی مولود یکون من ظھری الھادی عشر من ولدی ، ھو المھدی الذی بملاھا قسطاً وعدلاً کما ملئت ظلماً وجوراً،*
لیکن! میں اپنے صلب سے آنے والے اس مولود کو سوچ رہا ہو کہ جو مہدیؑ عج ہے کہ وہی مہدیؑ ہے کہ جس نے زمین کو عدل و انصاف سے بھرنا ہے کہ جس طرح ظلم و جور سے بھری ہوگی۔
*تکون لہ حیرۃ وغیبتہ بضل مھا اقوام و یھتدی فیھا اخرون*
اس کے لیے حیرت اور غیبت ہے (آخرالزمان) اور اس کے اندر بہت ساری ملتیں گمراہ ہونگی اور کچھ اور ملتیں جو ہدایت پائیں گی۔
*فقلت: یا امیرالمومنینؑ ، فکم تکون تلک الحیرۃ والغیبتہ؟*
پوچھا: یا امرالمومنینؑ اس کی مدت کتنی ہے؟
*فقال: سبت من الدھر*
فرمایا: زمانے کا دور ہے جو بالآخر گذرے گا۔
*فقلت: ان ھذا لکائن؟*
پوچھا: کیا یہ واقعاً سچی بات ہے ؟( کیا ایسا ہوگا؟)
*فقال: نعم ، کما انہ مخلوق*
فرمایا: جس طرح مہدیؑ کے آنے کی بشارت جو رسولؐ اللہ سے چلی آرہی ہے حتمی ہے ، ان کا خود اپنا وجود پانا حتمی ہے اسی طرح غیبت بھی حتمی ہے۔
*فقلت: ادرک ذلک الزمان؟*
جناب اصبغ نے پوچھا: کیا میں بھی اس زمانے کو پا لوں گا۔
*فقال: انی لک یا اصبغ بھذا الامر؟*
*اولئک خیار ھذہ الامتہ مع ابرار ھذہ العترہ،*
فرمایا: اے اصبغ تمھارا اس سے کیا مطلب یعنی تم اس زمانے کو نہیں پاؤ گے۔ فرمایا، کہ وہ لوگ جنہوں نے اس زمانے کو پانا ہے وہ اس امت کے منتخب شدہ ہیں۔اور جو میری عترت کے ساتھ اکھٹے ہونگے۔
*فقلت: ثم مازا یکون بعد ذلک؟*
پوچھا اس کے بعد کیا ہوگا؟
*قال: ثم یفعل اللہ مایشاء ، فان لہ ارادات و غایات و نھایات*
فرمایا: جو خدا چاہے گا وہی ہوگا۔ خدا کے اس کام کے اندر اپنے خاص ارادے اور مقاصد ہیں اور نتائج ہیں۔
یہ حدیث ہمارے اس باب کے بارے میں ربط نہیں رکھتی کیونکہ اس میں بارہ اماموںؑ کا ذکر نہیں۔ اس میں خاص امام مہدیؑ عج کا ذکر ہے اور ان کی غیبت کے بارے میں گفتگو ہے۔
*ظاہراً اس کا موضوع کے ساتھ ربط نہیں۔ لیکن! امیرالمومنینؑ نےجہاں امام مہدیؑ عج کی بشارت دی وہاں اسی زمانے سے غیبت کی بھی خبریں ہیں۔*
یہ روایت ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ امام زمانؑ عج کی غیبت حادثاتی نہیں ہے کہ ایک دم ہوگی بلکہ اس کی خبر پہلے سے تھی کہ غیبت حتمی ہے۔ اور غیبت کا ایک زمانہ گذرنا ہے۔ البتہ! ہمارے آئمہؑ پروردگار کے دیے ہوئے علم سے جانتے تھے کہ یہ کیوں ہونی ہے۔ اس کی حکمتیں وہی ہیں جو بیان ہوئیں ہیں کہ لوگ تیار نہیں ہیں۔ ان کی قدر ناشناسی ہے اور ان کی جان کو خطرہ ہے۔ حکمتیں اپنی جگہ ہیں۔ لیکن! غیبت کی خب پہلے سے ہی موجود ہے۔ اور غیبت کے دوران کیا ہوگا یہ بھی پہلے سے ہی بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ گمراہ ہونگے اور کچھ لوگ اسی غیبت میں ہدایت پائیں گے۔ بالآخر تیار ہونگے اور امام کے ظہور کی تیاری بھی کریں گے۔ اور آج ہم موجودہ دور میں بھی یہی دیکھ رہے ہیں کہ غیبت بعض لوگوں کے لیے گمراہی کا باعث ہے حتیٰ کہ شک و تردید کی وجہ سے وہ انکار مہدیؑ عج تک پہنچ جاتےہیں۔ خود ہمارے تشیع میں بھی ایسا ہی ہے۔ اور کچھ لوگ مدمقابل جو ہیں وہ فرامین معصومینؑ، فلسفہ غیبت اور انتظار کو پڑھتے ہیں اور اس میں یہ غیبت ان کے لیے باعث ہدایت ہے۔ اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ غیبت ختم ہو اور ہم ظہور تک پہنچیں اس اعتبار سے وہ ہدایت پا جاتے ہیں۔ آج کے دور میں اگر کوئی شخص ظہور کے لیے کوشش کرے گا تو دو صورتیں ہیں یا اس کی کوشش کے نتیجے میں ظہور ہو جائے گا اور اگر ظہور نہیں ہوگا تو حد عقل خود اس کی زندگی ہدایت پر گذرے گی۔ وہ خود ایک نیک اور صالح زندگی گذارے گا اور ان لوگوں میں سے ہوگا جو بعد میں رجعت بھی کریں۔ انشاءاللہ!
یعنی! اس اعتبار سے ظہور کے لیے کوشش کرنا خود انسان کی زندگی کو منقلب کرنے اور اس کو بہت ساری توفیقات سے نوازنے کا باعث بھی ہے لیکن اگر وہ غیبت کی وجہ سے بے حس اور بے فکر ہو جائے اور اس موضوع پر غور نہ کرے تو ممکن ہے کہ یہی غیبت اس کی گمراہی کا باعث بھی ہو جائے۔
*اس سے پہلے جب ہمارے آئمہؑ کا دور تھا تو بہت سارے لوگ ہمارے آئمہؑ کو نہیں دیکھتے تھے۔*
امام صادقؑ اگر مدینہ میں ہیں تو سارے شعیہ انہیں نہیں دیکھتے تھے فقط چند لوگ انہیں دیکھتے تھے۔ لیکن! ہو سکتا ہے کہ باقی لوگ امام صادقؑ کے شاگردوں کے ذریعے امامؑ سے متصل ہوتے تھے ۔ اور ان کے علم اور ہدایت سے فیض یاب ہوتے تھے۔ اور چونکہ امامؑ باطنی ہدایت کی ایک بحث ہے۔ یعنی! انسان جتنا نیک ہوتا جائے گا اسے امام کی جانب سے جو توفیقات اور تعلیمات حاصل ہونے ہیں تو وہ دائرہ بڑھتا جائے گا۔
*اسی لیے امام زمانؑ عج کے قرب کو حاصل کرنے کے لیے ایک دعا ہے* ⏹️
امامؑ حجت خدا ہے اور ان کے ہم پر الطاف ہیں۔ لیکن! ہم انہیں تب محسوس کریں گے جب ہم خود اس راہ پر ہونگے تب ہمیں ان کا فائدہ ہے۔ بہت سے لوگ خدا کی نعمات سے تو استفادہ کر رہے ہیں لیکن ! منکرِ خدا ہیں لیکن! جو خدا کا قائل ہے وہ ان نعمات کو بہتر طریقے سے درک کر رہا ہے اور خدا پر اس کا یقین بھی بڑھ رہا ہے اور خدا کے قریب بھی ہو رہا ہے کیونکہ راہ یہی ہے۔
*صحابی رسولؐﷺ ،جناب اویس قرنیؒ* ✨کہ جنہوں نے کبھی بھی رسولؐ اللہ کو حسی طور پر نہیں دیکھا تھا لیکن! وہ ایمان میں ان اصحاب سے کم نہیں تھے کہ جو قریب بیٹھتے تھے۔ یعنی! ایک معنوی رابطہ اپنی قوت اور طاقت میں حسی رابطے سےکم نہیں ہے۔ لیکن! اس سے کئی گنا زیادہ بھی ہے۔
*اس وقت بھی جو آیت اللہ بہجت نے فرمایا کہ ان کے لیے غیبت شخصی نہیں رہے گی۔*
*فرمان امام سید سجاؑد ہے کہ: زمانہ غیبت اہل معرفت کے لیے بمزلہ مشاہدہ ہوگی۔*
بمزلہ مشاہدہ یعنی ! یہاں حتماً رویت حسی مراد نہیں ہے۔ یعنی انسان اسی خط میں ہے جس خط میں امامؑ عج ہیں لہذا وہ اسی عنوان سے نیکیاں بھی کر رہا ہے اور انہوں محسوس کرتا ہے چاہے انہیں نہ دیکھے۔ جیسے ہمارے گیارہ آئمہؑ کو عام طور پر سارے شعیہ نہیں دیکھتے تھے۔ کیونکہ اس دور میں ارباط کے وہ وسائل نہیں تھے۔ ظالم حکومتیں تھیں، لوٹ مار اور مسائل تھے۔ بہت سارے شیعہ نہیں دیکھتے تھے۔ آئمہؑ کے زمانے میں بہت سارے شعیہ اپنے امام کو دیکھ نہیں سکتے تھے تو آئمہؑ نے اپنا نظام وکالت بنایا ہوا تھا تاکہ شیعوں کو آنے کی زحمت نہ ہو۔ لیکن! اب یہ شیعہ کہ جس نے اپنی پوری عمر میں امام صادق کو نہیں دیکھا ہوا ہے لیکن ان پر ایمان رکھتا تھا اور کہتا تھا کہ میری زندگی اس امام سے جڑی ہوئی ہے۔ میں اس لیے زندہ ہوں چونکہ میرا امام صادقؑ زمین پر موجود ہے ۔ اس نے مولاؑ کو نہیں دیکھا ہوا تھا لیکن! اس کی محبت اور قربت میں ذرا برابر کمی نہیں تھی۔ یعنی ! ہم رابطے کو فقط حسی رابطے تک محدود نہ کریں۔ کیونکہ اس صورت میں ہم خود بہت سارے مسائل کا شکار ہو جائیں گے۔ حتیٰ کہ ہمارا اپنے علماء کے ساتھ بھی معنوی رابطہ ہے۔ مثلاً ہم غیبت نعمانیؒ پڑھ رہیں ہیں تو ہمارا ان سے ایک معنوی رابطہ ہے ہم ان سے استفادہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ ہم ان کو نہیں دیکھ رہے ہیں۔ یعنی! اپنے علماء سے، اپنے اساتذہ سے ، اپنے امامؑ عج سے حتیٰ پروردگار سے رابطے کو کبھی بھی حسی نہ کہیں۔ بلکہ رابطے کو وسعت دیں۔ اور قوی ترین رابطہ معنوی ہے۔
اس حدیث کا آخری فقرہ ہے کہ؛
*اولئک خیار ھذہ الامتہ*
یہ منتخب شدہ لوگ ہیں۔
🫴🫴
اب یہاں عوام الناس میں شعبہ پیدا ہوتا ہے اور کچھ خطیب بھی لوگوں میں شعبہ پیدا کرتے ہیں ۔ ابھی چند دن پہلے کچھ لوگوں نے یہ سوال کیا۔
*آیا یہ 313 افراد اس وقت زمین پر موجود ہیں؟؟ آیا یہ امام مہدیؑ عج کے گرد موجود ہیں۔ آیا میں ایک عام شخص 313 میں شامل نہیں ہوسکتا۔ اگر یہ 313 اشخاص معین شدہ ہیں اور موجود ہیں تو پھر میرا بعنوان منتظر تیاری کرنے کا کیا فائدہ ہے۔ ؟؟*❓❓❓
*ایسے سوالات آتے ہیں۔* 🫴
لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا ان 313 کے نام ذکر نہیں ہیں اور اگر ہیں تو کیا روایات صحیح نہیں ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ لوگ جو رجعت کریں گے (دنیا میں واپس پلٹائے جائیں گے) آیا وہ لوگ ہیں؟؟
*جواب: جی نہیں!*❌
اس سے مراد رجعت کنندہ لوگ نہیں ہیں۔ 313 سے مراد
اُسی زمانے کے زندہ لوگ ہیں اور یہ 313 رہبر ہیں۔ خواص ہیں اور اسی زمانے میں پوری زمین پر 313 ہستیاں موجود ہونگی جو مولاؑ عج کے ظہور کی کوشش کر رہی ہونگی۔ کلچرِ انتظار ، تحریک انتظار اور ہوسکتا ہے کہ بڑی بڑی تنظیمیں اور انجمنین بنائی ہوں ہوسکتا ہے کہ حکومتیں قائم کی ہوئی ہوں۔ یہ اس زمانے کے 313 فعال رہبر ہونگے جو پوری دنیا تشہیو میں اور پوری دنیا اسلام کے اندر کوشش کر رہے ہونگے۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ امام ؑ عج کے ظہور سے پہلے کا دور بہت اچھا دور ہے کیونکہ 313 رہبر پوری دنیا میں کام کر رہے ہیں۔ اور وہ دس سے بارہ ہزار جوانوں کا لشکر جو ایک جوان دس مومنین کی طاقت رکھتا ہے وہ موجود ہیں۔ زمانہ ظہور سے پہلے کا دور بہت اچھا دور ہے۔
عام طور پر ہمارے خطیب حضرات اسے بہت برے دور سے وہ ایک رخ سے توصیف پیش کرتے ہیں جبکہ روایات نے دو رخ پیش کئے ہیں۔ 🫴
*درست ہے کہ! ظالمین کی حکومتیں ہیں اور ظالم تعداد میں زیادہ ہیں لیکن! ان کے مدمقابل نیک حکومتیں بھی ہیں۔*
مثلاً! فرض کریں کہ دنیا کی آبادی 6 یا 8 عرب ہے، فرض کریں کہ اگر 7 عرب ظالم ہونگے، فسق و فجور میں پڑے ہونگے۔ تو اس کے مدمقابل 1 عرب خالص لوگ ہونگے۔ اور پھر ان کے اندر وہ 313 خالص ترین لوگ ہونگے۔ اور جس دنیا کے اندر ایک عرب خالص لوگ ہوں تو وہ دنیا نیک ترین دنیا ہے۔ اسی لیے انہیں لوگوں میں جو 313 ہیں اور دس سے بارہ ہزار جوان ہیں جو امامؑ عج پر جان فشانی کریں گے۔ امامؑ عج جو پوری دنیا پر سات مہینے میں وہ ان نیکوں کی کثرت سے کریں گے۔ لہذا کبھی بھی ظہور سے پہلے والے زمانے کو برے انداز سے توصیف نہیں کرنا چاہیے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ پچاس سال پہلے سے آج ہم زیادہ بہتری کی جانب جا رہے ہیں۔ اب حقوق الانسان، جانوروں اور درختوں کے حقوق کی بھی تنظیمیں ہیں ۔ یعنی! دنیا رُشد کی جانب جا رہی ہے اور آہستہ آہستہ یہ رشد اس نہج پر پہنچے گا کہ دنیا مولاؑ عج کے ظہور کو مانگے گی پھر چاہے وہ کسی بھی ملت اور مذہب کے ہوں۔ وہ لوگ خود کہیں گے کہ دنیا کے امور کو چلانا ہمارا کام نہیں ، ہم ناکام ہو چکے ہیں۔ اب کوئی آسمانی شخص آئے۔ تو یہ رشد کی علامت ہے۔
*جب مولاؑ عج ظہور فرمائیں گے تو ان کے گرد ہر ملت و مذہب کے لوگ جوق در جوق جمع ہو جائیں گے۔ حتیٰ وہ مسلمان بھی نہیں ہونگے۔ وہ مولاؑ کو پکاریں گے اور کہیں گے کہ ہمیں اس قسم کے مسیحٰا کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی حکومتوں کو گرائیں گے۔*
*یعنی! یہ رشدِ فکری کا مقام ہے۔* ✨✨
یعنی! ظلم کے خلاف پوری دنیا میں ہمہ گیر کوششیں ہونگی۔ اور پھر فقط مٹھی بھر لوگ نہیں رہیں گے۔
313 فقط کمانڈ کریں گے۔ یہ ہواؤں کو ، لوگوں کے مسائل اور مزاجوں کو کنٹرول میں رکھیں گے تاکہ انسان ابلیس کے ہتھے نہ چڑھے۔
*خلاصہ یہ ہے کہ یہ جو کہا گیا ہے کہ اولئک خیار ھذہ الامتہ*
یعنی! راستے کھلے ہوئے ہیں۔ اور ہم میں سے کوئی بھی ان
313 تک جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور کبھی بھی مایوسی نہیں ہونی چاہیے کہ یہ تو گِنے چنے لوگ ہیں اور ہمارے مولاؑ عج کے گرد موجود ہیں۔ 🫴
بعض تو اہل منبر کہتے ہیں کہ 313 کو مولاؑ عج نے کسی اور سیارے میں رکھا ہوا ہے جہاں سے یہ نازل ہونگے ۔ یعنی! ان کے حوالے سے عجیب عجیب باتیں ہوتی ہیں۔ اور بعض اہل منبر یہ کہتے ہیں کہ یہ گذشتہ لوگ ہیں اور ان کو اس زمانے میں زندہ کیا جائے گا۔
اس زمانے میں انقلاب اسی زمانے کے لوگوں نے لانا ہے۔ ہاں! یہ ہے کہ گذشتہ لوگ رجعت کریں گے۔ لیکن! دنیا کو اسی زمانے کے لوگوں نے ٹھیک کرنا ہے۔ 🫴
*ہم اپنی گفتگو کو فطری حالت میں رکھیں نہ کہ اپنی گفتگو میں معجزات اور کرامات کا سہارا لیں کیونکہ اس کا فائدہ یہ ہے کہ سب لوگ سو جائیں گے کیونکہ وہ کہیں گے کہ جب ہر کام معجزے سے ہونا ہے تو میں کیوں اپنا کام کروں۔ اور یہ بھی نہ کہیں کہ مُردوں نے کام ٹھیک کرنا ہے۔ یہ کام زندوں نے ٹھیک کرنا ہے۔*
*313* رہبران معین تعداد ہے۔ اگر معین نہ ہوتا تو پھر ستر یا سینکڑوں کا لفظ استعمال ہوتا یہاں 312 یا 314 نہیں کہا گیا ۔ عدد کے لیے قلی تعداد ہوتی ہے۔ مثلاً مولاؑ کہتے ہزاروں ہونگے۔ لیکن! جب ہم اکائی کو بھی معین کر رہے ہیں ہم کہہ رہے ہیں 313 تو اس کا مطلب ہے کہ یہاں معین افراد کی بات ہو رہی ہے۔ اب جوانوں کے لیے جو تعداد بیان ہوئی ہے وہ دس یا بارہ ہزار ہے اسی لیے ہم دونوں کو کہتے ہیں۔
*حدیث نمبر5️⃣*✨
حدیث لوح کے راوی جناب جابر بن عبداللہ انصاری ہیں۔ کچھ چیزیں جو فضیح کی شکل میں نازل ہوئی ہیں ان میں سے ایک صحیفہ مختومہ کی بات تھی جو باب دوم میں پڑھی گئی اور ایک یہ لوح کی بات ہے۔ :
*عن ابی عبد اللہ جعفر بن محمدؑ ﷺ*
*قال ابی لجابر بن عبداللہ الانصاری:*
ان لی الیک لحاجتہ، فمتی یخف علیک ان اخلوبک فیھا فاسالک عنھا؟
اے جابرؒ مجھے تم سے کچھ کام ہے اور جب تمھارے پاس وقت ہو تو میں تم سے
*قال جابر: فی ای الاوقات احبت ،*
جناب جابر نے کہا: آپؑ جب چاہیں میں آپؑ کی خدمت میں ہوں۔
*فخلابہ ابی یوماً، فقال لہ:*
فرماتے ہیں کہ ایک دن میرے والد نے جناب جابرؑ کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا:
*یا جابر اخبرنی عن اللوح الذی رایتہ بید فاطمتہ بنت رسولؐ اللہ صلی اللہ علیھا، وعما اخبرتک امی فاطمتہ بہ مما فی ذلک اللوح مکتوب*
پوچھا کہ مجھے اس لوح کے بارےمیں بتاؤ کہ جو تم نے ہماری والدہ جناب سیدہ فاطمتہ الزہراؑ کے ہاتھ میں دیکھی۔ اور تمھیں جو میری ماں نے خبر دی تھی اس کے حوالے سے بتاؤ۔
فقال جابر:
جناب جابر نے کہا:
*اشھد بان اللہ لا شریک لہ انی دخلت علی امک فاطمتہ ﷺ فی حیاۃ رسولؐ اللہ ﷺ فھناتھا بولادۃ الحسینؑ ، ورایت فی یدھا لوحاً اخضر طئت انہ من زمرد، ورایت فیہ کتابتہ طیضاء شبیہتہ بنور الشمس ، فقلت لھا : بابی انت و اُمی ، ما ھذا اللوح؟*
چونکہ جناب جابرؒ نے بہت ہی اہم چیز کی جانب اشارہ کرنا تھا تو لہذا انہوں نے کہا :
میں سب سے پہلے خدا کو گواہ قرار دیتا ہوں کہ جس کا کوئی شریک نہیں ۔ میں مادر گرامی جناب فاطمہؑ کی خدمت میں رسولؐ اللہ کی زندگی میں آیا اور میں نے ان کو ولادتِ امام حسینؑ کی مبارکباد دی۔ (یعنی! یہ لوح اس زمانے میں بی بی ؑ کو عطا ہوئی) اور میں نے گمان کیا کہ یہ لوح زمرد سے بنی ہوئی ہے۔ اور اس کے اندر میں نے سورج کی مانند چمکتی ہوئی لکھائی دیکھی۔ تو میں نے کہا: آپؑ پر میرے ماں باپ قربان یہ کیا ہے؟؟
فقالت:
بی بی ؑ نے فرمایا: 🌷✨
*ھذا لوح اھداء اللہ عزوجل الی رسولہﷺ فیہ اسم ابی اسم بعلی واسم ولدی واسم الاوصیاء من ولدی، اعطانیہ ابی لبسرنی بذلک*
یہ وہ لوح ہے جسے خدا نے تحفے کےطور پر رسولؐ خدا ﷺ کو دی ہے۔ اور اس کے اندر میرے والد کا نام ہے اور اس میں امیرالمومنینؑ کا نام ہے، میرے فرزندوں کے نام ہیں اور ان سے آنے والے اوصیاءؑ کے نام ہیں۔ یہ لوح میرے باباؐﷺ نے مجھے دی ہے تاکہ اس سے میرا دل مسرور رہے۔
*قال جابر: فدفعتہ الی امک فاطمتہؑﷺ فقاتہ و نسختہ*
جابرؒ نے کہا: کہ آپؑ کی مادر گرامی فاطمہ زہراؑ نے مجھے وہ لوح دی اور میں نے اس لوح سے ایک نسخہ لکھا۔ اور ایک کاپی اپنے پاس رکھی۔
*فقال لہ ابیﷺ: یا جابر، فھل لک ان تعرضہ علی؟*
میرے والد گرامی جناب محمد باقرؑ نے فرمایا اے جابر وہ مجھے دکھاؤ میں اس کو دیکھنا چاہتا ہوں۔
*قال: نعم، فمشی معہ ابیؑ الی منزلہ فاخرج ابی صحیفتہ من رق*
میرے والد جناب جابر کے گھر گئے اور وہاں انہوں نے ایک غلاف سے ایک صحیفہ نکالا ۔
*فقال: یا جابر، انظر فی کتابک حتی اقرا انا علیک، فقراہ ابی فما خالف حرف حرفا*
فرمایا: اے جابر، تو اسے لفظ بہ لفظ دیکھ میں اسے پڑھ رہا ہوں۔
*فقال جابر: فاشھد اللہ انی ھکذا رایت ذلک فی اللوح مکتبوبا:*
جناب جابر: میں خدا کو گواہ قرار دیتا ہوں میں نے اس انداز سے لوح میں دیکھا تھا جو بی بی ؑ کے پاس لکھا ہوا تھا:
معروف حدیث بارہ امامؑ
*✨✨لوح کی عبارت:✨✨*
﷽،
*ھذا کتاب من اللہ العزیز الحکیم لمحمدؐﷺ نبیہ و نورہ و حجابہ و سفیرہ و دلیلہ، نزل بہ الروح الامین من عند رب العالمین، یا محمدؐﷺ عظم اسمائی ، واشکر نعمائی، ولا تجھد الائی، انی انا اللہ لا الہ الا انا قاصم الجبارین، و مدیل المظلومین، و دیان یوم الدین، و انی انا اللہ لا الہ الا*
*انا فمن رجا غیر فضلی ، اوخاف غیر عدلی، عذبہ عذاباً لا اعذبہ احداً من العالمین، فایای فاعبد، وعلی فتوکل، انی لم ابعث نبیا فاکملت ایامہ ، وانقضت مدتہ الا جعلت لہ وصیا، و انی فضلتک علی الانبیاء، و فضلت وصیک علی الاوصیا، واکرمتک بشبلیک و سبطیک الحسؑن و الحسینؑ ، ۔*
یہ کتاب پروردگارِ عظیم کی جانب سے اپنے پیغمبر محمدؐﷺ کے لیے ہے۔ جو نور پروردگار ہے، اور حجاب ہے (پیغمبرؐﷺ پروردگار کے حاجب یعنی پردہ دار اور پروردگار کے معارف ہیں۔ یعنی ہم راہِ پیغمبرﷺ سے وہاں تک پہنچیں گے۔) پروردگار کے سفیر ہیں اور اس کی جانب راہنمائی کرنے والے ہیں۔
اے پیغمبرؐﷺ ! آپؐ میرے اسماء کی تعظیم کریں ، میرے نعمات کا شکر ادا کریں اور میری آیات کا انکار نہ کریں۔ میں آپؐ کا پروردگار ہوں کہ جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں۔ میں ستم گاروں کو مارنے والا ہوں اور میں ہی ہوں جو مظلومین کی مدد کرنے والا ہوں۔ اور میں روز جزا کا دادگر ہوں۔
*سبحان اللہ!*
میں تمھارا پروردگار ہوں کہ جس کے سوا کوئی خدا نہیں کہ میرے فضل سے ہٹ کر کوئی امید رکھے۔ اور میرے عدل سے ہٹ کر کسی سے خوف کھائے۔ میں اسے عذاب دونگا کہ اس طرح کا عذاب میں نے کسی کو نہیں دیا ہے۔ (شرک)
جو بھی ہے میری ہی عبادت کر۔ اور مجھ پر ہی توکل کر۔ میں نے کسی نبیؑ کو نہیں بھیجا کہ اس کے ایام کی مدت کو تکمیل کیا۔ مگر یہ کہ اس کے لیے وصیؑ قرار دیا۔
*اے پیغمبرؐﷺ میں تجھے انبیاؑ پر فضیلت دے رہا ہوں ۔ اور تیرے وصی کو تمام اوصیاء پر فضیلت دے رہا ہوں۔ اور تجھے اکرام اور عزت دی۔ تیرے دو شِبل اور سَبَط سے۔* 🌷
*شِبل اور سِبَط سے مراد:*
شِبل شیر کا وہ بچہ ہے جو شکار کرنا شروع کر دے یعنی! آپؐ کے دو شجاع بچے اور سبط یعنی! دو نواسے حسنؑ اور حسینؑﷺ
*🌷الھمہ صل علی محمدؐﷺ و آل محمدؑﷺ🌷*
اب یہاں سے آئمہؑ کی توصیف شروع ہو رہی ہے۔ 🫴
*فعلت الحسؑن معدن علمی بعد انقضاء مدۃ ابیہ ، وجعلت حسیناؑ معدن و حی فاکرمتہ بالشھادہ و خسمت لہ بالسعدۃ، فھو افضل من استشھد فی، وارفع الشھداء درجتہ عندی ، وجعلت کلمتی التامتہ معہ، وحجتی البالغتہ عندہ ،*
میں حسنؑ کو اپنے علم کا خزانہ دار قرار دوں گا جب ان کے بابا علیؑ کی مدتِ امامت تمام ہو جائے گی۔ میں حسینؑ کو اپنی وحی کا خزانہ دار قرار دوں گا اور ان کو میں شہادت کی عظمت دوں گا۔ اور ان کا اختتام سعادت پر ہوگا۔ اور میری راہ میں شہید ہونے والوں میں سے حسینؑ سب سےافضل ہیں۔ میرے نزدیک شہداء میں ان کا بلند ترین مقام ہے۔ اور میں ان کے ساتھ اپنے کلمات کو مکمل کروں گا۔ اور ان کے پاس میری حجتہ البالغہ ہے۔
امام حسینؑ کی توصیف یہاں تک ہے۔ اور یہ رسولؐ اللہﷺ کے اس فرمان سے مشابہ ہے
*الحسینؑ و منی و انا من الحسینؑ*🌷
*سبحان اللہ!*✨
یعنی! سید الشہداءؑ کے زمانے سے معیار حسینت ہے اور دین اسلام وہی ہے جہاں حسینیت ہے۔ حتیٰ کہ انہی لوگوں نے دنیا پر حکومت کرنی ہے اور اسلام حقیقی کو نافذ کرنا ہے۔
فرمایا:
*بعترتہ ائسیب واعاقب*
*اِسی حسینؑ کی عترت سے میں لوگوں کو جزا و سزا دوں گا۔ یعنی! معیارِ سزا و جزا اولاد حسینؑ یعنی! آئمہؑ معصومینؑ ہیں۔* 🌷🌷🌷🌷🌷
*اولھم: علی سید العبدین و زین اولیائی الماضین، وابنہ سمی جدہ المحمود محمدؑ الباقر، لعلمی والمعدن لحکمتی،*
سب سے پہلے علؑی سید العابدینؑ ہیں جو گذشتہ اولیاء کی زینت ہیں۔ اور ان کے جو بیٹے ہیں کہ جن کو اپنے جد کے نام کے ساتھ جو نام محمود ملے گا وہ باقرؑ العلوم ہیں۔ جو میرے علم کو کھولنے والے اور میری حکمت کے خزانہ دار ہیں۔
فرمایا:
*سیھلک المرتابون فی جعفر،*
عنقریب ھلاک ہوجائیں گے جعفرؑ پر شک کرنے والے۔
*الراؑد علیہ کالرادؑ، حق القل منی،*
جعفرؑ کو رد کرنے والےایسے ہی ہیں جیسے انہوں نے مجھے رد کیا۔
*امام صادقؑ کے دور میں فتنے:* 🫴
امام جعفر صادقؑ کے زمانے میں ایک بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا تھا اور اس کے پیچھے ایک تاریخ ہے۔ امام جعفر صادقؑ کے مد مقابل جھوٹے امام اور جھوٹے مہدی کھڑے ہوئے تھے اور وہ امام حسنؑ کی نسل میں سے تھے۔ اور بنی عباس بھی انہی جھوٹے اماموں کے قائل ہوئے جنہوں نے انہیں قتل بھی کیا اور بعد میں آئمہؑ حقا پر بھی حملےکئے۔
امام صادقؑ کی زندگی میں بہت بڑے فتنے تھے اور اس زمانے میں بہت بڑا مسئلہ قیام زید تھا جس نے بہت سارے شیعوں کو آئمہؑ سے جدا کیا۔ البتہ خود جناب زید ایسے نہیں تھے لیکن ان کے بعد ان کا بیٹا اور پھر بعد میں آنے والے لوگوں نے فرقہ زیدیہ تشکیل دیا اور یہ ایک بہت طاقتور فرقہ تھا۔ حتیٰ شیعہ اثنا عشری سے زیادہ طاقتور تھا انہوں نے پوری تاریخ میں کئی مرتبہ حکومتیں بنائیں۔ اور یہ امام صادقؑ کے سخت ترین دشمن تھے۔ اور امام صادقؑ کی فقہ پر عمل کرنے والوں کے سخت ترین دشمن تھے۔ انہوں نے شیعوں پر کم ظلم نہیں کیا ۔
*لاکرمن مثوی جعفر ولا سرنہ فی اشیاعہ و انصارہ واولیائہ*
میں جعفرؑ کی راہ کو عظمت دوں گا۔ پروردگار ان کے اوصیا، شعیہ اور اولیا کی عظمت کو بیان کر رہا ہے۔
فرمایا:
*اُتیحت بعد فتنہ عمیاء حندس*
امام جعفر صادقؑ کے بعد ایک فتنہ اٹھنے والا ہے جو اندھا کرنے والا ہے کہ جس فتنے میں راہ خدا مجمل ہوجائے گی۔
*الا ان خیط فرضی لا ینقطع و حجتی لا تخفی، و ان اولیائی بلکاس الاوفی یسقون، ابدال الارض،*
میری راہ کی رسی ٹوٹنے والی نہیں اور میری حجت مخفی ہونے والی نہیں۔ اور میرے اولیاء قُرب کے جام پیے ہوے ہیں اور میرے یہ سارے اولیاءؑ ابدال الارض ہیں۔
*ابدال* : یعنی ! ایک کے جانے کے بعد دوسرا ان کی جگہ لے لیا ہے۔ یعنی وہ صالحین خدا جو زمین پر بعنوان حجت ہیں اور زمین کبھی بھی ان سے خالی نہیں۔
*الا ومن حجد واحداً منھم فقد جحدنی نعمتی، و من غیر آیتہ من کتابی فقد افری علی ویل للمفتین الجاحدین*
اگر کسی نے ان میں سے ایک کا بھی انکار کیا گویا اس نے میری نعمتوں کا انکار کر دیا۔ اور جو میری کتاب کی کسی ایک آیت میں تبدیلی لائے گا گویا اس نے مجھ پر جھوٹ باندھا اور جھوٹ باندھنے والوں پر ہلاکت ہو۔
اب یہاں امام جعفر صادقؑ کے بعد تین چار فتنے اٹھے وہ امام موسٰی کاظم کے مدمقابل فتنہ تھا اسی لیے اس دور کو تاریک والا دور کہا گیا ہے۔
*1۔ فتنہ اسماعلیہ*
*2۔ فتنہ فتیحیہ*
*3۔ لوگ امامؑ صادقؑ کی غیبت کے قائل ہوگئے۔*
ان فتنوں کی وجہ سے تشیع میں کافی اختلاف پڑا اور ان فتنوں کی وجہ سے *فرقہ اسماعیلیہ* ایک بہت بڑا فرقہ چلا آرہا ہے۔
*عند انقضاء مدۃ عبدی موسٰی وحبیبی و خیرتی ان المکذب بہ کالمکذب بکل اولیائی*
میرے جو بندے موسیٰؑ جو میرے محبوب اور منتخب شدہ ہیں ان کی مدتِ امامت کے بعد ( امام رضاؑ کی توصیف بیان ہو رہی ہے کہ جو ان کی تکذیب کرے گا گویا اس نے میرے سارے اولیاءؑ کی تکذیب کر دی۔
امام کاظمؑ کےبعد *واقفیہ فتنہ* اٹھا۔ اور اب اس کی طرف اشارہ ہے۔
*و ھو ولی و ناصری، ومن علیہ اعباء النبوۃ*
میرا ولی اور ناصر (امام رضاؑ) ہے اور میں نے ان پر بوجھِ نبوت ڈالا ہے۔ اور اس کا امتحان نبوت کی مشکلات سے لیا ہے۔
*یہاں اس طرف اشارہ ہے کہ امام رضاؑ کو*
*1۔ ولایت عہدی ملی*
*2۔ حکومت ملی تھی اور ایک وسیع سرزمین ملی تاکہ امامت کے مسائل کو حل کر سکیں۔*
و بعد خلیفتی علی بن موسیٰ الرضا
*یہ تمام توصیف امام علی بن موسیٰ الرضاؑ کی ہے۔* 🫴
*جاری ہے۔۔۔۔*🌷🌷
والسلام۔
تحریر و پیشکش: ✒️
سعدیہ شہباز
طالبہ
*عالمی مرکز مہدویت قم ایران۔ 🌍*
0 Comments